حول العالمالقرآن الكريمالرئيسية
القرآن الكريم

قیامه – اردو ترجمہ اور عربی متن

About Surah Al-Qiyamah (The Resurrection)

  • Surah 75 of 114
  • Meccan
  • 40 verses
  • Arabic name: القيامة

Surah Al-Qiyamah (القيامة), "The Resurrection", is a Meccan surah with 40 verses. On Around The World every verse has its own page that brings together the Arabic text, the Sa'di and Jalalayn tafsir, the English meaning and related topics. Choose a verse number below.

All 40 verses: choose one for its tafsir

سورة قیامه - اردو

سورة قیامه - عدد الآيات 40

قیامه ایک مکی سورت ہے جس کی 40 آیات ہیں۔ یہ مصحف کی 75ویں سورت ہے اور مدینہ مصحف کے صفحہ 577 سے شروع ہوتی ہے۔

سورة القيامة مكية، عدد آياتها 40، وترتيبها 75 في المصحف، وتبدأ في الصفحة 577 من مصحف المدينة النبوية.

سورة القيامة بالعربية · الصفحة 577 من المصحف · تفسير السورة

لَآ أُقْسِمُ بِيَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ﴿١﴾

ہم کو روز قیامت کی قسم

وَلَآ أُقْسِمُ بِٱلنَّفْسِ ٱللَّوَّامَةِ ﴿٢﴾

اور نفس لوامہ کی (کہ سب لوگ اٹھا کر) کھڑے کئے جائیں گے

أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَٰنُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُۥ ﴿٣﴾

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے؟

بَلَىٰ قَٰدِرِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّسَوِّىَ بَنَانَهُۥ ﴿٤﴾

ضرور کریں گے (اور) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں

بَلْ يُرِيدُ ٱلْإِنسَٰنُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُۥ ﴿٥﴾

مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خود سری کرتا جائے

يَسْـَٔلُ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلْقِيَٰمَةِ ﴿٦﴾

پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا؟

فَإِذَا بَرِقَ ٱلْبَصَرُ ﴿٧﴾

جب آنکھیں چندھیا جائیں

وَخَسَفَ ٱلْقَمَرُ ﴿٨﴾

اور چاند گہنا جائے

وَجُمِعَ ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ ﴿٩﴾

اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں

يَقُولُ ٱلْإِنسَٰنُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ ٱلْمَفَرُّ ﴿١٠﴾

اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں؟

كَلَّا لَا وَزَرَ ﴿١١﴾

بےشک کہیں پناہ نہیں

إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمُسْتَقَرُّ ﴿١٢﴾

اس روز پروردگار ہی کے پاس ٹھکانا ہے

يُنَبَّؤُاْ ٱلْإِنسَٰنُ يَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ﴿١٣﴾

اس دن انسان کو جو (عمل) اس نے آگے بھیجے اور پیچھے چھوڑے ہوں گے سب بتا دیئے جائیں گے

بَلِ ٱلْإِنسَٰنُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ بَصِيرَةٌۭ ﴿١٤﴾

بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے

وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُۥ ﴿١٥﴾

اگرچہ عذر ومعذرت کرتا رہے

لَا تُحَرِّكْ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِۦٓ ﴿١٦﴾

اور (اے محمدﷺ) وحی کے پڑھنے کے لئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اس کو جلد یاد کرلو

إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُۥ وَقُرْءَانَهُۥ ﴿١٧﴾

اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمے ہے

فَإِذَا قَرَأْنَٰهُ فَٱتَّبِعْ قُرْءَانَهُۥ ﴿١٨﴾

جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم (اس کو سنا کرو اور) پھر اسی طرح پڑھا کرو

ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُۥ ﴿١٩﴾

پھر اس (کے معانی) کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے

كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ ٱلْعَاجِلَةَ ﴿٢٠﴾

مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو

وَتَذَرُونَ ٱلْءَاخِرَةَ ﴿٢١﴾

اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو

وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ نَّاضِرَةٌ ﴿٢٢﴾

اس روز بہت سے منہ رونق دار ہوں گے

إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌۭ ﴿٢٣﴾

اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہوں گے

وَوُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۭ ﴿٢٤﴾

اور بہت سے منہ اس دن اداس ہوں گے

تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌۭ ﴿٢٥﴾

خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے

كَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَاقِىَ ﴿٢٦﴾

دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے

وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍۢ ﴿٢٧﴾

اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے

وَظَنَّ أَنَّهُ ٱلْفِرَاقُ ﴿٢٨﴾

اور اس (جان بلب) نے سمجھا کہ اب سب سے جدائی ہے

وَٱلْتَفَّتِ ٱلسَّاقُ بِٱلسَّاقِ ﴿٢٩﴾

اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے

إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمَسَاقُ ﴿٣٠﴾

اس دن تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف چلنا ہے

فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ ﴿٣١﴾

تو اس (ناعاقبت) اندیش نے نہ تو (کلام خدا) کی تصدیق کی نہ نماز پڑھی

وَلَٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ﴿٣٢﴾

بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا

ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ يَتَمَطَّىٰٓ ﴿٣٣﴾

پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا

أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴿٣٤﴾

افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰٓ ﴿٣٥﴾

پھر افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَٰنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى ﴿٣٦﴾

کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟

أَلَمْ يَكُ نُطْفَةًۭ مِّن مَّنِىٍّۢ يُمْنَىٰ ﴿٣٧﴾

کیا وہ منی کا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا؟

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةًۭ فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ ﴿٣٨﴾

پھر لوتھڑا ہوا پھر (خدا نے) اس کو بنایا پھر (اس کے اعضا کو) درست کیا

فَجَعَلَ مِنْهُ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ ﴿٣٩﴾

پھر اس کی دو قسمیں بنائیں (ایک) مرد اور (ایک) عورت

أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْۦِىَ ٱلْمَوْتَىٰ ﴿٤٠﴾

کیا اس خالق کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اُٹھائے؟